if (end == -1) بہادر لڑکا ایک بہت پیارا واقعہ brave boy Urdu Story

Saturday, December 3, 2016

بہادر لڑکا ایک بہت پیارا واقعہ brave boy Urdu Story


بہادر لڑکا ایک بہت پیارا واقعہ brave boy Urdu Story
بیان کیا جاتا ہے۔ ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو حکیموں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پِتّے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پِتّے سے جس میں یہ یہ خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لیے تیرے بیٹے کے پِتّے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے کسان بہت غریب تھا۔ ڈھیر سارا روپیہ ملنے کی بات سن کر وہ اس بات پر آمادہ ہوگیا کہ سپاہی اس کے بیٹے کو لے جائیں۔ چناں چہ وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ خاص نشانیوں والا لڑکا مل گیا تو اب قاضی سے پوچھا گیا کہ اسے قتل کر کے اس کے جسم سے پتا نکالنا جائز ہوگا یا نہیں! قاضی صاحب نے فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کی جان بچانے کے لیے ایک جان کو قربان کر دینا جائز ہے۔ قاضی کے فتوے کے بعد لڑے کو جلاّد کے حوالے کر دیا گیا کہ وہ اسے قتل کر کے اس کا پِتّا نکال لے لڑکا بالکل بے بس تھا۔ وہ اپنے قتل کی تیاریاں دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا۔ زبان سے کچھ نہ کہہ سکتا تھا۔ لیکن جب جلاد تلوار لے کر اس کے سر پر کھڑا ہوگیا تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ بادشاہ خود اس جگہ موجود تھا۔ اس نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔ جلاّد کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر تو بڑے بڑے بہادر خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ اس نے جلاّد کو ر کنے کا اشارہ کر کے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا لڑکے۔ یہ تو بتا، اس وقت مسکرانے کا کون سا موقع تھا؟ لڑکے نے فوراً جواب دیا، حضور والا دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سہارا اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ میرے ماں باپ نے روپے کے لالچ میں مجھے حضور کے سپرد کر دیا۔ ماں باپ کے بعد دوسرا سہارا انصاف کرنے والا قاضی اور بادشاہ ہوتا ہے۔ کہ اگر کوئی ظالم کسی کو ستائے تو وہ اسے روکیں۔ لیکن قاضی اور بادشاہ نے بھی میرے ساتھ انصاف نہ کیا اب میرا آخر ی سہارا خدا کی ذات تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ جلاّد ننگی تلوار لے کر مر ے سر پر پہنچ گیا اور خدا کا انصاف بھی ظاہر نہیں ہو رہا۔ بس یہ بات سوچ کر مجھے ہنسی آ گئی۔ لڑکے کی یہ بات سنی تو بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے حکم دیا کہ لڑکے کو چھوڑ دو۔ ہم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ ہماری جان بچانے کے لیے ایک بے گناہ کی جان لی جائے۔ لڑکے کو اُسی وقت چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے بہت محبت سے اسے اپنی گود میں بٹھا کر پیار کیا۔ اور قیمتی تحفے دے کر رخصت کیا۔ کہتے ہیں۔ اسی وقت سے بادشاہ کی بیماری گھٹنی شروع ہو گئی اور چند دن میں ہی وہ بالکل تن درست ہوگیا۔
اس حکایت میں شیخ سعدیؒ نے یہ نکتہ بیان کیا ہے۔ کہ جان خواہ بادشاہ کی ہو یا غریب کی، قدر و قیمت میں دونوں برابر ہیں۔ نیز یہ کہ خود غرض بن کر دوسروں کی جانیں پامال کرنے والے دنیاوی لحاظ سے بھی اتنے فائدے میں نہیں رہتے جس قدر نفع میں خلق خدا پر رحم کرنے والے رہتے ہیں

No comments:

Post a Comment